بُرا تھا جو وہ اچھّا ہو گیا ہے
گھروں کا نور زندہ ہو گیا ہے
تمھیں جانا تھا حسنِ گفتگو سے
تمھارا بول بالا ہو گیا ہے
پڑھے ہیں ہم نے دل سے میر و غالب
ہمارا شوق پورا ہو گیا ہے
نہیں لکھنا ہیں اب تعویذ اس کو
ہمارا پیر اندھا ہو گیا ہے
پرانے جاننے والے کہاں ہیں
ہمارے بیچ جھگڑا ہو گیا ہے
بہت اچھا ہوا ہے آج ثاقب
کسی کا عشق رسوا ہو گیا ہے
